صوبیدار فضل حسین صاحب

اختر محمود
بیول کی ایک تاریخ ساز ہستی اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئی ( اللہ پاک اُن کے درجات بلند کرے، آمین) اس ہستی کے بارے لکھنا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے لیکن انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ ایک تو میرے لیے محترم تھے اور دوسرے میں نے اپنی جوانی تک اس ہستی کو قریب سے دیکھا اور اُن سے سیکھا،
جناب صوبیدار فضل حسین صاحب جو بیول کی تاریخ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے اُن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اُن سے جو کچھ سیکھا اور جانا مختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا، صوبیدار صاحب ہمارے گاؤں کے رہنے والے اور ہمسائے تھے، یہ میرے پرائمری سکول کے دنوں کی بات ہے جب صوبیدار صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد گاؤں واپس آ گئے اور بیول میں اپنے فنِ خطاطی سے منسلک ہو گئے، فن بھی ایسا کہ کلمہ طیبہ سے لے کر ہر قسم کی تصویر کو کینوس پر لانا اُن کے لیے کوئی مسلۂ ہی نہیں تھا، جناب کے فن کو بیول سے باہر دور دراز علاقوں تک پزیرائی حاصل تھی اور ان کے فن کے چرچے تھے، جس طرح ہر شخص کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے اسی طرح صوبیدار صاحب کا بھی اپنا ایک مزاج تھا، یعنی نظم و ضبط ( Disciplined ) کے پابند تھے، گویا اپنی بات منہ پہ کہنا اور اس انداز سے کہنا کہ سامنے والے کو بات سمجھ آ جائے یعنی بات میں توازن رکھنا، اگر میں کہوں کہ ( میں انہیں تایا جان کہا کرتا تھا) میں نے ذاتی زندگی میں تایا جی سے کیا سیکھا؟ تو اُن میں بہت سی خوبیاں تھی جن میں سے چند میں نے بھی سیکھیں، حیسا کہ ہمارے ہاں بچوں کے نام بگاڑے جاتے ہیں اور ایک دن میں نے تایا صاحب کے سامنے ایک لڑکے کا نام پکارا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ اس بچے کا یہ نام ہے اور اس نام کے یہ معنی ہیں، یقین کریں وہ انداز میرے دل میں اُتر گیا کیونکہ وہ سمجھانے کا انداز خوب جانتے تھے، پھر ایسی طرح اور باتیں بھی تھیں جو میرے لیے مثال تھیں جیسے خود محنت کرنا اور رزقِ حلال کمانا جو میں نے بچپن سے لے کر جوانی تک انہیں کرتے دیکھا، نہ اُن کے منہ سے کسی کے بارے برا کہتے سُنا اور نہ کسی سے تکرار دیکھی، ہاں اپنی رائے کا اظہار کھل کے کرتے تھے لیکن میزان قائم رکھتے تھے، گاؤں میں جب بھی کوئی بات ہوتی پہنچتے اور بعض جگہوں پر مفید مشورے بھی دیتے، گوکہ میں کافی عرصے سے یوکے میں ہوں لیکن اگر تایا جان کے فن کے علاوہ زندگی کا نچوڑ دیکھوں تو ایک خوبصورت زندگی تھی، جس میں اولاد کی خوشیاں، لمبی اور خوبصورت ازدواجی زندگی،A well mannered and disciplined life)زندگی گزاری ہے جو کسی بھی نوجوان کے لیے ایک مثال ہے،
دعا ہے اللہ پاک تایا جان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور میرے دوست شفیق صاحب، بھائیوں اور خاندان کے افراد کو صبرِ جمیل عطا کرے، آمین۔

Arslan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *