بیول کے متعلق مختلف روایات

بیول : پاکستان میں ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خان کی یونین کونسل ہےیہ پرانے گاؤن میں سے ہے قوم ھندو راجگان کے عہد میں رائے کیرہ اور رائے بیلا دو حقیقی بھائی تھے ان میں سے کیرہ کو کلر کی جاگیر ملی اور اس نے کلر میں نالہ کانسی کے کنارے گاؤں آباد کیا اور اسی کے نام سے پہلے کھلر اور بعد میں کلر بنا اور رائے بیلا کو موجودہ بیول کے مقام پر جاگیر ملی چنانچہ رائے بیلا نے 412 ھ المقدس میں نالہ کے کنارئے ایک گاؤں آباد کیا جو بعد میں اسی کے نام سے بیول بنا بعد ازاں جب سلطاں محمود غزنوی یہاں حملہ کیا تو فتح کے بعد قوم گگھڑ کو یہ علاقہ دیا گگھڑوں نے ھندوؤں بے دخل کر کے اس علاقہ پر قبضہ کر لیا کچھ عرصہ بعد قوم کسوال نے اپنے شریک بھائوں سے ندی کے کنارے زبردست زبردست لڑائ کی اور شکست کھا کر اندرھل میر پور چلے گئے چنانچہ رئس نے گاؤں پیرزادوں کو جاگیر میں عطا کر دیا پیرزادوں نے قوم اعوان گنگال,کو یہاں آباد کیا

کافی عرصہ بعد کسوالوں نے اہنی قدیمی واراثت کا دعوہ کیا اور قوم گنگال سے جنگ کی اس کے نتیجے میں اللہ داد خان ولد داتا خان قوم گنگال مارا گیا اور کسوال قوم کو زبر دستی نکال دیا گیا اللہ داد خان کا مزار اسی گاؤں میں ہے اور جافی مشہور ہے بعد میں اقوام ہتھیال,دھمیال,کنیال کو آباد کیا ان کے علاوہ خدمت گار اقوام بافندہ, کنجلد,گورؤں اور ملیار ترکھان قومیں آباد ھوئیں اور یہ گاؤں پرگنہ دانگلی کے اندر رہا اس کے بعد سکھ قوم یہاں قابض ھوئ تو اس نے بیول کو ہرگنہ یعنی ضلع کا درجہ دیاسکھو کو انگریزوں نے ساگری کے مقام پر شکست دی اور یہ علاقہ انگریزوں کے زیر تسلط رہا اس کے بعد جب 14 اگست 1947 ع کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست قائم ہوئ تو سکھ قوم کو یہاں سے بے دخل کر دیا گیا .

بیول کے متعلق مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہ سکندرِ اعظم کے گھوڑے کے نام پر قائم ہوا، جو لڑائی میں مارا گیا تھا جبکہ دوسری روایت کے مطابق اسے ایک ہندو راجہ نے اپنی بیٹی کے نام پر بسایا تھا۔ تاریخی طور پر ان دونوں روایات کے بارے میں کوئی تاریخی شہادت نہیں مل سکی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے یہاں زیادہ تر سکھ اور ہندو آباد تھے۔ 1947ء میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران یہاں کافی قتل و غارت ہوئی۔ وسطی بیول میں ہندوئوں اور سکھوں کے گھر جلا دئیے گئے تھے جبکہ دو گوردوارے بھی جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ ہندوئوں کا ایک مندر ابھی تک خستہ حالت میں کھڑا ہے۔

کچھ کا خیال ہے کہ اس کا نام سکندر اعظم کے گھوڑے کے نام پر رکھا گیا تھا جو ایک زبردست لڑائی کے دوران مارا گیا تھا۔

دوسرے لوگ یہ دعوی کریں گے کہ یہ نام ہندو راجہ کی بیٹی کے نام سے منسوب بیبی کے نام پر پڑا ہے جس پر ہندی زبان کے لفظ “والا” لگا ہوا تھا اور ساتھ میں یہ “بیبی وال” تھا ، جو وقت گزرنے کے

ساتھ ساتھ بیول کی حیثیت سے ختم ہوا۔ ان دعوؤں کے لئے کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اگرچہ1947 کے موسم بہار تک ، بیول کی ایک بڑی تعداد میں غیر مسلم آبادی تھی ، جن میں زیادہ تر

سکھوں پر مشتمل تھے ، جن میں ہندوؤں کی ایک چھوٹی تعداد تھی۔ بیول فرقہ وارانہ فسادات کا شکار تھے جس میں مقامی مسلمانوں نے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصے تک اس شہر کا محاصرہ کیا۔ تعطل کے نتیجے میں فسادیوں نے بیول کے وسط میں رہنے والے سکھوں اور ہندوؤں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ واقعی طور پر اگلی آگ میں بیول میں سکھوں اور ہندوؤں کی پوری آبادی زندہ جل گئی

یہاں کی تجارت پر انہی سکھ اور ہندوئوں کا غلبہ تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت غریب کاشتکاروں پر مشتمل تھی۔ یہاں بھارت سے نقل مکانی کرکے آنے والے مہاجرین بھی آباد ہیں۔ یہ علاقہ ماضی میں راجہ کشمیر کے زیر قبضہ بھی رہا۔ قلعہ سنگھنی، مغل دور کا تعمیر کردہ پکا کُھوہ اور پکّی مسجد اس علاقے میں ماضی کی یادگار کے طو رپر اب تک موجود ہیں۔ یہاں زیادہ تر قریشی، اعوان، گکھڑ،گُجر، مغل، سیّد، راجپوت اور جسیال قوموں کے افراد آباد ہیں۔ یہاں طلبا و طالبات کے سکول، ہسپتال اور دیگر سہولتیں دستیاب ہیں۔ کبڈی، والی بال اور کتوں کی لڑائی علاقے کے معروف اور پسندیدہ کھیل ہیں۔ برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی چیئرپرسن اور ممبر پارلیمنٹ سعیدہ وارثی کا بنیادی تعلق اسی قصبہ سے ہے۔ ان کے والد یہاں سے نقل مکانی کر کے برطانیہ جا بسے تھے۔ وہ یہاں وقتاً فوقتاً آتی ہیں۔یہاں کے کافی لوگ غیرممالک میں روزگار کے لئے مقیم ہیں۔ یہاں کے ڈاکٹر عتیق الرحمان نے اپنے والد عبدالرحمان کے نام پر ٹرسٹ قائم کر رکھا ہے، جس کے تحت انٹرنیشنل ہسپتال کے نام کا ایک جدید ہسپتال کام کر رہا ہے۔

Shahid